ابنا: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شایع ہونے والے ایک مضمون میں روس کے صدر کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ اس بات پر یقین کرنے کے کافی ثبوت و قرائن موجود ہیں کہ شام میں ہونے والا موجودہ کیمیائی حملہ، شامی حکومت نے نہیں بلکہ باغیوں نے کیا تھا اور یہ کہ امریکا کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو عالمی کنٹرول میں دینے کا روسی منصوبہ تسلیم کرلینا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر امریکا کی کوئی بھی کارروائی خود اقوام متحدہ کے لیے خطرناک ہونے کا باعث بنےگی اورامریکا کی فوجی کارروائی کے نتیجے میں معصوم شہریوں کے ہونے والے جانی نقصان سے یہ تنازع شام کی حدوں سے باہر بھی پھیل سکتا ہے جس سے حالات پر قابو پانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجائیگا۔قابل ذکر ہے کہ شام میں حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق عائد کئے جانے والے الزام پر امریکہ ایسی حالت میں بضد ہے کہ شام کے حکام خاصطور سے اس ملک کے صدر بشار اسد نے بارہا تاکید کے ساتھ اپنی حکومت پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے بارہا اعلان کیا ہے کہ اس قسم کے ہتھیار مخالف دہشتگردوں کی جانب سے چلائے گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی جانب سے تحقیقات کے عمل کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔......./169
11 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 462133
روس کے صدر ولادیمیر پیوتین نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر امریکا کا کوئی بھی فوجی اقدام، خود اقوام متحدہ کے لیے خطرناک ثابت ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اس سے دہشت گردی کی ایک لہربھی پیدا ہونے کا خدشہ بڑھے گا۔